Urdu book · اظہارِ دین

گاڈ پارٹیکل کیا ہے

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

اسکاٹ لینڈ کے ایک سائنس داں پیٹر ہگز (Peter Higgs) نے 1964ء میں اس موضوع پر زیادہ واضح انداز میں ایک مفصل پیپر تیار کیا، جس کا ٹائٹل یہ تھا: Broken Symmetries and the Masses of Gauge Bosons اس وقت سے زیر تلاش پارٹکل کو ہگز بوزان کہا جانے لگا۔ سائنسی نقطہ نظر سے ہگز بوزان کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اس لیے وہ ساری دنیا کے سائنس دانوں کے لیے تلاش کا موضوع بن گیا۔ آخر کار 1998ء میں اس موضوع کی تحقیق کے لیے ایک خصوصی سرنگ بنائی گئی۔ اس سرنگ کو ایک یورپین ادارہ نے تیار کیا تھا۔ اس کا نام یہ ہے: European Organization for Nuclear Research اس سرنگ کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)۔ اس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اس میں کام کیا۔ 4 جولائی 2012ء کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا۔ سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اس تحقیق میں وہ ’نیئر ڈسکوری‘ تک پہنچ گئے ہیں۔ ہگز بوزان، دراصل فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ پارٹکل ہے جو اس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی۔ فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کاسمک بال کی صورت میں تھی۔ کائنات کے تمام پارٹکل اس کے اندر شدت سے باہم پیوست تھے۔ پھر اس کاسمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے۔ روشنی کی رفتار معلوم طور پر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ کاسمک بال سے جو پارٹکل خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page