Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے۔ ہر چیز جو اس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے۔ یہ تمام ایٹم الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ یہ تمام پارٹیکل باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی۔ یہ ذرات باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہو سکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہو جائے۔ ہگز بوزان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ اس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتا ہے۔ ہگز بوزان ایک سب ایٹمک پارٹیکل کا نام ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، ہگز بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹیکل کو کمیت عطا کرے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول (molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے۔ پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جو کہ اس وقت کائنات میں موجود ہیں۔ اگر ہگز بوزان نہ ہوتے تو پارٹیکل میں کمیت پیدا نہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹیکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہو جاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کائنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک۔ قرآن کی تصدیق قرآن کی سورۂ النساء میں ارشاد ہوا ہے: اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْاَنَ ۬ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (4:82)۔ یعنی، کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس قبل دریافت زمانے میں قرآن کی اس آیت کا اترنا گویا یہ دعوی کرنا تھا کہ بعد کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page