قرآن کی تصدیق
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی۔ اس طرح یہ واقعہ اس بات کی تصدیق ہو گا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طور پر ان حقیقتوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگس بوزان کا تصور پیشگی طور پر قرآن میں موجود تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورۃ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی، کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔ قرآن کی اس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے— پہلے مرحلے کو 'رتق' کہا گیا ہے ۔ رتق کا مطلب ہے منظم الاجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ اس میں کا سمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دوسرے مرحلے کو قرآن میں 'فتق' سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فتق کا مطلب ہے: الْفَصْلُ بَيْنَ الْمُتَّصِلَيْنِ، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو جانا۔ اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پانی کا ذکر علامتی طور پر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں۔ پانی ایک جوہری مادہ (substance) ہے۔ اس طرح کے بہت سے جوہری مادے کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ پانی ہائڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہی معاملہ دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی ۔ اس طرح ، اس آیت میں پانی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader