انسان کی دریافت
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
1۔ آئڈیل ازم (Idealism) 2۔ بیہویرازم (Behaviourism) 3۔ یوٹیلیٹرین ازم (Utilitarianism) یہاں میں نے آئڈیل ازم کا لفظ اس کے کلاسکل معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے لغوی معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر آئڈیل کا ایک تصور لیے ہوئے ہے، ہر انسان اس آئڈیل کو پانا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں عوام اور خواص کا کوئی فرق نہیں۔ عوام کی اکثریت اپنی غفلت کی بنا پر آئڈیل کی تلاش کے بارے میں شعوری طور پر باخبر نہیں ہوگی، تاہم غیر شعوری طور پر اس کا کیس پوری طرح یہی ہے۔ البتہ خواص، یعنی فلسفی اور مفکر اور رفارمر سب کے سب اس میں مبتلا رہے ہیں۔ مگر دوسری طرف تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام لوگ، بلا استثنا آئڈیل کے بارے میں اپنی تلاش میں ناکام رہے۔ آئڈیل سماج، آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل ادارہ، آئڈیل نظام، یہی ہر ایک کا محبوب نشانہ رہا ہے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ہر ایک اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہا، اور آخر کار وہ مایوسی کے عالم میں مر گیا۔ 1۔ قدیم یونان کا مشہور فلسفی افلاطون (Plato 427) قبل مسیح میں پیدا ہوا، اور 347 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سقراط (Socrates) سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) اس کا شاگرد تھا۔ افلاطون کو اپنے زمانے میں اتنا بڑا درجہ ملا کہ وہ اُس زمانے کے شاہی خاندان کا معلم بن گیا۔ لیکن اس کی سوانح عمری میں ہمیں یہ الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں کہ— وہ ایک مایوس انسان کی طرح مرا: He died as a disappointed person. ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ افلاطون نے یونان میں آئڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کو اپنا مقصد بنایا۔ اس نے اس موضوع پر کتاب لکھی۔ اس نے وقت کے شاہی خاندان کی اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader