انسان کی دریافت
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
آڈیل نظریے کے مطابق ، تعلیم وتربیت کی۔ اُس کے نزدیک اس کا آئڈیل اسٹیٹ اتنا کامل تھا کہ اس نے اس موضوع پر اپنی کتاب میں سزا (punishment) کا قانون شامل نہیں کیا۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اس کا آئڈیل اسٹیٹ سرے سے قائم ہی نہ ہوسکا ، نہ کسی شہر میں اور نہ پورے ملک میں۔ آخر کار وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہوا ، اور اِسی مایوسی کے عالم میں حسرت کے ساتھ مر گیا۔ یہی انجام ، بلا استثنا ہر فلسفی اور ہر مفکر اور ہر رَفارمر کا ہوا ہے۔ ہر ایک نے اپنے ذہن میں ایک آئڈیل دنیا بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی آئڈیل دنیا نہ بنا سکا۔ آپ کسی بھی مشہور آدمی کی سوانح عمری پڑھیے تو آخر میں ہر ایک کے بارے میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ وہ اپنے نشانے کو پانے میں ناکام رہا اور آخر کار مایوسی کے عالم میں مر گیا ـــــ روسو ، مارکس ، ڈارون ، جان آسٹن ، لارڈ کُر زن ، وغیرہ ہر ایک کا خاتمہ محرومی کے احساس کے ساتھ ہوا۔ انسان کی اِس عمومی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے یہ غلطی کی کہ اس نے خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو سمجھے بغیر خود اپنے ذہن سے اپنا ایک آئڈیل نقشہ بنایا اور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑا۔ حالاں کہ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اس قسم کی کوشش سراسر عبث تھی۔ ایسی کوشش کبھی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی ناکام تجربے کی بنا پر لوگوں میں عمومی طور پر وہ تصور رائج ہو گیا جس کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ـــــ آئڈیل کبھی حاصل نہیں ہو سکتا: Ideal can't be achieved. مگر حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے یہ قول درست نہیں۔ انسان کے دماغ میں جو آئڈیل بسا ہوا ہے ، وہ یقینی طور پر قابلِ حصول ہے ، مگر موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں بلکہ موت کے بعد کی دنیا میں۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق ، یہ آئڈیل دنیا جنت ہے ، اور وہ مستحق افراد کو صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہوگی۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ آئڈیل دنیا کو موت سے پہلے کی زندگی میں پانا چاہتا ہے۔ حالانکہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، یہ آئڈیل دنیا صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader