Urdu book · اظہارِ دین

انسان کی دریافت

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے تخلیقی پلان سے اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر انسان کا یہ کیس بن گیا کہ وہ امید کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے اور محرومی کا احساس لے کر مر جائے۔ حالانکہ اگر وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے موت سے قبل کی زندگی میں بھی امید ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی امید۔ ایسا آدمی فطری طور پر کبھی ذہنی تناؤ (tension) میں مبتلا نہیں ہوگا اور وہ اس المیے سے بھی بچ جائے گا کہ محرومی کے احساس پر اس کا خاتمہ ہو۔ تاریخ میں بہت سے مفکر اور رفارمر گزرے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ موجودہ دنیا میں آئھیل اسٹیٹ، آئڈیل نظام، آئڈیل سماج، آئڈیل ادارہ بنے، مگر بلا استثنا ہر ایک اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی یہ موجودہ دنیا اس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اس دنیا میں ایسا کوئی میکانزم نہیں جو لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کریں۔ چنانچہ پوری تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ افراد نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے پورے نظام کو غلط رخ پر ڈال دیا اور ابتدائی مصلح کے پورے نقشے کو تباہ کر ڈالا۔ فلسفی افلاطون نے اپنے زمانے کے بادشاہ سکندر اعظم (Alexander the Great) کو شہزادگی کے زمانے میں تربیت دے کر تیار کیا کہ وہ افلاطون کے آئڈیل اسٹیٹ کو قائم کرے۔ لیکن سکندر اعظم جب بڑا ہوا تو اس نے افلاطون کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنی پسند کا راستہ اختیار کر لیا۔ جرمن فلسفی کارل مارکس ( وفات 1883) کے اقتصادی نظریات کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹی بنی۔ لینن اور اسٹالن کی قیادت کے تحت، کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بھی زمین کے بڑے رقبے پر قائم ہوگئی۔ لیکن یہ حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔ کمیونسٹ لیڈر ٹراٹسکی (Trotsky leon) نے کمیونسٹ نظام کی اس ناکامی کو خود کمیونسٹ لیڈروں کی غداری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر ٹراٹسکی نے ایک کتاب شائع کی جس کا ٹائٹل یہ تھا: Revolution Betrayed

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page