Urdu book · اظہارِ دین

انسان کی دریافت

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

جرمن سائنس داں آئن سٹائن (Albert Einstein) نے جوہری توانائی (atomic energy) کو دریافت کیا۔ اس دریافت میں عظیم مثبت فائدہ چھپا ہوا تھا، لیکن پولٹیکل لیڈروں نے جوہری توانائی کی دریافت کو لے کر ایٹم بم بنا ڈالا اور ساری دنیا میں جنگی تیاری کا جنون پیدا کر دیا۔ انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی نے زبردست جدوجہد کے ذریعے انڈیا کو انگریزوں سے آزاد کرایا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایسا سماج بنایا جائے گا جو انسانی خدمت اور سیوا پر مبنی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ماڈل بستی کے طور پر مہاراشٹر میں ”سیوا گرام“ بنایا۔ مگر آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے تمام ساتھی، سیوا کے نظریے کو چھوڑ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ انھوں نے گاندھی کی نصیحتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ اس منظر کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے کہا— اب میری کون سنے گا۔ اس قسم کے واقعات تمام مصلحین کے ساتھ پیش آئے۔ ان تمام واقعات کا مشترک سبب یہ تھا کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے ہر اصلاحی اسکیم کو تہہ و بالا کر دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی کوئی اصلاحی اسکیم اپنے مطلوب معیاری معنوں میں کامیاب نہ ہوسکی۔ 2۔ انسان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اس بنا پر ہر انسان درست سوچ (right thinking) سے محروم رہتا ہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مر جاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ہر آدمی اپنی سوچ اور اپنے جذبات کے اعتبار سے ماحول کی پیدا وار ہوتا ہے، مگر اپنی بے خبر کی بنا پر وہ اسی مصنوعی شخصیت کو اصل شخصیت سمجھ لیتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی بار انسان نے کنڈیشننگ کے اس معاملے کو جانا۔ امریکہ کے پروفیسر جے بی واٹسن (John Broadus Watson) نے لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page