Urdu book · اظہارِ دین

انسان کی دریافت

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی کتاب بہیو یرازم (Behaviourism) شائع کی۔ اسی کتاب کے نام پر نفسیات میں بہیو یر سٹ اسکول (Behaviourist School) قائم ہوا، جو اتنا عام ہوا کہ عرصے تک دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں وہ علم النفس کے نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔ لیکن پروفیسر واٹسن کی یہ دریافت صرف ایک ادھوری دریافت تھی۔ اس دریافت کے مطابق، کنڈیشنڈ انسان ہی اصل انسان تھا۔ اس نفسیاتی اسکول میں یہ مان لیا گیا کہ جو چیز انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے وہ اس کا پیدائشی نیچر نہیں ہے، بلکہ وہ بعد از پیدائش اس کے ماحول کا نرچر (nurture) ہے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہر انسان کو اپنی تعمیر شخصیت کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ قدرت نے پیاز کی صورت میں اس معاملے کا ایک نمونہ انسان کے لیے رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیاز میں ایک کے بعد ایک پرتیں (layers) ہوتی ہیں۔ ان پرتوں کو ہٹایا جائے تو آخر کار اس کا اصل مغز سامنے آ جائے گا۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی اصل شخصیت وہ ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر ملتی ہے، پھر خارجی ماحول سے اس کے اوپر کنڈیشننگ کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باشعور ہونے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کر کے وہ ان خارجی پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ فطری انسان سامنے آ جائے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے۔ ایسا خدا کے تخلیقی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کو خدا نے شعور اور آزادی کی صلاحیت بخشی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوبارہ انسان فطری (Mr. Nature) بنائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے، اور اس امتحان میں کامیاب ہونے والوں ہی کے لیے خدا نے اپنے ابدی انعامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، مگر پوری معلوم تاریخ میں ڈی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page