Urdu book · اظہارِ دین

انسان کی دریافت

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کنڈیشنگ کا نظریہ کبھی موجود نہیں رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر زمانے میں لوگوں کی کنڈیشنگ ہوتی رہی، لیکن عدم واقفیت کی بنا پر وہ اپنی ڈی کنڈیشنگ نہ کرسکے۔ ایسی حالت میں محفوظ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پوری تاریخ ایسے افراد سے خالی ہے جو اپنی ڈی کنڈیشنگ کر کے اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنا سکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تاریخ کے تمام مفکرین اور فلاسفہ اپنے اصلاحی یا فکری کردار کو ادا کرنے کے لیے نااہل تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ تمام فکری نظاموں میں اسلام اس معاملے میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو تزکیہ (purification) کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ اُسی عمل کا نام ہے جس کے لیے ہم نے ڈی کنڈیشنگ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ (introspection) کرے۔ وہ اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالے اور ان کی اصلاح کرے۔ یہ عمل تمام تر ایک ذہنی عمل ہے۔ آدمی بے لاگ طور پر اپنے اوپر نظرثانی کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل طور پر ساری عمر جاری رہتا ہے۔ اس طرح آدمی تزکیہ کے عمل کے ذریعے اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مزکی اور مطہر شخصیت (purified personality) بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کے لفظ کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کے ہم معنیٰ لفظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس استعمال کے اعتبار سے ڈی کنڈیشنگ کا مطلب ہوتا ہے ـــ ذہنی تناؤ کو ختم کرنا۔ مگر میرے نزدیک یہ ڈی کنڈیشنگ کے لفظ کا نادرست استعمال ہے۔ میرے نزدیک ڈی کنڈیشنگ سے مراد یہ ہے کہ پروفیسر واٹسن کے تصور کے مطابق، کنڈیشنگ کے ساتھ برعکس عمل کیا جائے۔ جس کنڈیشنگ کو پروفیسر واٹسن نے حتمی سمجھ لیا تھا، اس کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page