Urdu book · اظہارِ دین

خدا کی طرف

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وجدان کی سطح پر جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی غیر حقیقی چیز کبھی اضافہ پذیر نہیں ہوتی۔ واہمہ اور حقیقی وجدان میں یہ فرق ہے کہ واہمہ ہمیشہ بے ثبات ہوتا ہے ۔ وہ صرف وقتی طور پر آدمی کو متاثر کرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کی رسائی حقیقی وجدان تک ہو جائے تو اُس پر کبھی زوال نہیں آتا۔ حقیقی وجدان ہمیشہ ترقی کرتا رہتا ہے، اس کے یقین کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ واہمہ ایک مجہول چیز ہے، اس کی کوئی شعوری بنیاد نہیں۔ اس کے برعکس، وجدان پوری طرح شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ وجدان خود شعور کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ شعور کی تکمیل ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو اس کا داخلی احساس خود بتا دے گا کہ کون سی بات صرف واہمہ ہے اور کون سی بات وجدانی علم سے تعلق رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں تلاش کی منزلیں ہیں۔ آدمی کی عقل اُس کو وجدان تک پہنچاتی ہے اور وجدان اس کو حقیقت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا دیتا ہے۔ جو آدمی اس اعلیٰ مرتبے تک پہنچتا ہے، اس کے لیے عقل اور وجدان کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی عقل مکمل طور پر وجدان ہوتی ہے، اور اس کا وجدان مکمل طور پر عقل۔ یہی وہ مقام ہے جس کو معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ کہا جاتا ہے۔ تاہم عقلی دریافت اور وجدانی دریافت میں یہ فرق ہے کہ عقلی دریافت ایک موضوعی دریافت (objective discovery) ہے ۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت کی حیثیت ایک داخلی دریافت (subjective discovery) کی ہے۔ اس بنا پر دونوں دریافتوں کے درمیان بظاہر یہ فرق باقی رہتا ہے کہ عقلی دریافت ایک قابلِ مظاہرہ (demonstrable) دریافت ہے۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت خارجی طور پر قابلِ مظاہرہ نہیں۔ مگر یہ فرق کوئی حتمی فرق نہیں۔ جہاں تک صاحبِ وجدان کا معاملہ ہے، اس کے اپنے لیے دونوں قسم کی دریافتیں یکساں طور پر قابلِ یقین ہوتی ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ایک چیز کو وہ پیشانی کی آنکھ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page