انسان کی دریافت
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری عمل کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، اسی کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ میرے علم کے مطابق، مفکرین نے اگرچہ ڈی کنڈیشننگ کو اس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، لیکن میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ کا صحیح ترین مفہوم یہی ہے۔ اس موضوع پر ایک بار میری گفتگو ایک کمیونسٹ پروفیسر سے ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ کو ہم بھی مانتے ہیں، مگر ہم اس کو ڈی کلاسنگ (de-classing) کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ، اور ڈی کلاسنگ دونوں بالکل الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ڈی کلاسنگ ایک سماجی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــ بے طبقاتی سماج (classless society) بنانا۔ مگر ڈی کنڈیشننگ مکمل طور پر ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــ ذہن کی فکری آلودگی کو دور کر کے ذہن کو دوبارہ خالص فطری حالت پر لے جانا۔ 3۔ اس معاملے میں تیسری چیز وہ ہے جس کو افادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے مادی مفادات کا طالب رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اس تصور نے باقاعدہ فلسفے کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اسی فلسفے کو یوٹیلیٹرین ازم کہا جاتا ہے۔ اس افادی فلسفے کو پہلے برطانوی فلسفی بنتھم (Jeremy Bentham) نے پیش کیا تھا۔ بنتھم 1748 میں انگلینڈ میں پیدا ہوا، اور 1832 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اس افادی فلسفے کو انیسویں صدی کے مشہور فلسفی جان اسٹوارت مل (John Stuart Mill) نے، اور دوسرے فلسفیوں نے آگے بڑھایا، یہاں تک کہ عملاً یہ فلسفہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ بن گیا۔ آج شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام انسان اسی فلسفے کے تحت سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یوٹیلیٹرین اسکول میں بہت سے نام شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے درمیان بعض ظاہری اختلافات بھی ہیں، مگر عملاً یہی فلسفہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر آج تمام دنیا کے لوگ اس فلسفے کو قبول کیے ہوئے ہیں۔ وہ چیز جس کو مادّیت (materialism) کہا جاتا ہے، وہ دراصل یوٹیلیٹرین ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader