Urdu book · اظہارِ دین

انسان کی دریافت

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

یوٹلیٹرین اسکول، یاسٹیریر یلسٹ اسکول کے مطابق، موجودہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو پورا کر سکتا ہے۔ ویبسٹر کے مطابق، اس نظریے کی سادہ تعریف یہ ہے: The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility. یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جسے عوامی زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ــ کھاؤ، پیئو اور خوش رہو: Eat, drink and be merry. یہ تصور دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ اسی تصور کو ہندوستان کے شہنشاہ بابر (وفات 1530) نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا تھا ــ بابر بہ عیش کوش که عالم دوباره نیست! مگر پوری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ نشانہ قابل حصول نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی سوسال سے کم مدت کے لیے موجودہ دنیا میں جینے کا موقع پاتا ہے۔ اس محدود مدت میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آرزوؤں کے مطابق، یہاں اپنی مطلوب دنیا بنا سکے، ایسی آرزوئیں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے لامحدود حیثیت رکھتی ہیں۔ طرح طرح کی رکاوٹیں اس کا راستہ روک دیتی ہیں۔ حادثات اور بیماری اور دوسرے ناموافق اسباب اس کے لیے اپنے منصوبے کی تکمیل میں فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتے ہیں اور اگر بالفرض کوئی شخص اپنی خواہشوں کا ایک محل بنالے، تب بھی بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر موت آتی ہے اور یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی خواہشوں کے محل کو ڈھا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے مقرر نقشے کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے ــ موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا زمانہ عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ اپنے عمل کے مطابق، اس کا انجام پانے کا زمانہ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ امتحان ہال، کسی اسٹوڈنٹ کے لیے ٹسٹ دینے کی جگہ ہے، اور امتحان ہال کے باہر کی دنیا جاب (job) حاصل کرنے کی دنیا۔ جو لوگ موت سے قبل کی دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page