اظہارِ دین
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی تمناؤں کا محل بنانا چاہتے ہیں وہ اُس طالب علم کی مانند ہیں جو امتحان ہال کے اندر اپنے لیے جب تلاش کرنے لگے، حالانکہ ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ پہلی عالمی جنگ جب ہوئی تو اُس وقت انگریز، انڈیا کے اوپر حکومت کر رہے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انھوں نے نئی دہلی کے علاقے میں ایک شان دار نیا تعمیر کی۔ اس میں وہ وسیع محل بھی شامل تھا جس کا نام اُس وقت ”وائس رگل لاج“ رکھا گیا تھا، اور اب اس کو ”راشٹرپتی بھون“ کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ اس شان دار نیا میں ابدی طور پر پرعیش زندگی گزار سکیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری عالمی جنگ نے ان کے سنہرے خواب کو درہم برہم کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک فرانسیسی مدبر نئی دہلی آیا تھا۔ اس نے انگریزوں کی بنائی ہوئی اس خوش نما دنیا کو دیکھا تو اس نے کہا کہ ــــ انھوں نے کیسی شاندار نیا بنائی، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ اس کو چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave. انگریزوں سے پہلے دہلی میں مغل خاندان کا راج تھا۔ 1857ء میں ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ دہلی میں ان کی چھوڑی ہوئی شان دار عمارت ”لال قلعہ“ کی شکل میں موجود ہے۔ لال قلعہ کے ایک حصے میں میوزیم ہے۔ اس میوزیم میں جو چیزیں موجود ہیں، اُن میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جس کے اوپر یہ فارسی شعر کندہ ہے ــــ آسمان کے نیچے ان کی سلطنت ہمیشہ باقی رہے: همیشه باد به زیر سپهر بوقلموں ! اس ٹوٹے ہوئے پتھر کے ساتھ جو تشریحی عبارت لکھی ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پتھر ایک قدیم محل میں نصب تھا۔ وہ محل اب بالکل مٹ چکا ہے۔ اس کا یہ پتھر یادگار کے طور پر لال قلعہ کے میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں تمام انسانوں کا ہوا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے انسان نے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے اپنا محل بنانے کی کوشش کی، مگر کسی کے لیے بھی اس کا محل آرزوؤں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader