Urdu book · اظہارِ دین

پیشہ باد به زیر سپر بو قلموں!

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

تکمیل کا محل نہ بن سکا۔ یہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ ہے۔ یہ ایک ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو موجودہ دنیا میں کبھی کسی کے لیے واقعہ نہیں بنی اور نہ آئندہ وہ کسی کے لیے واقعہ بن سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یوٹیلیٹرین ازم کا نظریہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی مدتِ حیات (life span) کو اس نے دو مختلف حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا مختصر حصہ، قبل از موت دنیا میں رکھا گیا اور اس کا بقیہ تمام حصہ، بعد از موت کی زندگی میں رکھ دیا گیا ہے۔ قبل از موت کا عرصۂ حیات ٹسٹ کے لیے ہے اور بعد از موت کا عرصۂ حیات اپنی کارکردگی کے مطابق انعام پانے کے لیے۔ ٹسٹ کیا ہے۔ یہ ٹسٹ بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی اختیار کے باوجود اپنے کو بے اختیار بنا لے، وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے ۔ وہ سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خدا کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔ دنیا میں انسان کو اگر چہ کامل آزادی دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک کمزور مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ بیمار ہوتا ہے، وہ بوڑھا ہوتا ہے، وہ لا محدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کر پاتا۔ طرح طرح کے ناموافق حالات اس کے لیے رکاوٹ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار وہ بے بسی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر انسان، خواہ وہ کوئی بھی ہو، بیک وقت کمزوری اور آزادی دونوں کا مجموعہ بنا رہتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کر پاتا کہ وہ اپنی آزادی سے اپنی کمزوری کو جدا کر سکے۔ جنت نہ صرف ابدی ہوگی بلکہ وہ ایک ایسی کامل جگہ ہوگی جہاں ہر قسم کی محدودیت (limitations) کو ختم کر دیا گیا ہو گا، جہاں آدمی نہ صرف آزاد ہو بلکہ وہ اپنی ہر قسم کی آرزوؤں کو پورا کرنے کے مواقع بھی رکھتا ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جنت میں عظیم اقتدار (great kingdom) حاصل ہوگا (76:20) اسلامی تصور کے مطابق، جنت مکمل طور پر فساد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page