Urdu book · اظہارِ دین

بغیر ہدایت

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

بغیر ہدایت نظریۂ ارتقا کو ماننے والے لوگ زمین پر انسان کی تاریخ کو لاکھوں سال قدیم بتاتے ہیں، لیکن تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق، زمین پر انسان کی عمر بہ مشکل پچیس ہزار سال پیچھے تک جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلوؤں میں بہت زیادہ فرق ملے گا ـــــ انسان نے مادی چیزوں میں تو بہت زیادہ ترقی کی، لیکن انسانی علوم میں لمبی مدت گزرنے کے باوجود کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ مٹیریل ترقی کا خواب انسان نے بڑی حد تک پورا کر لیا، لیکن ذہنی اور روحانی ترقی کی سمت میں ابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اسی کا ایک اظہار درج ذیل کتاب ہے جو پہلی بار 1935ء میں چھپی۔ اس کا نام یہ ہے: Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown اصل یہ ہے کہ ترقی کے لیے ہمیشہ گائیڈ لائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ مٹیریل ورلڈ یا فزیکل ورلڈ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی گائیڈ لائن خود ان اشیا کے اندر موجود ہے۔ تجربے کے ذریعے اس قانون کو دریافت کر کے ترقی کا سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً سواری کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے انسان گھوڑے پر سواری کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہیے دار گاڑی بنائی۔ اس کے بعد سمندری جہاز بنائے گئے۔ پھر اس نے بائسکل تیار کی۔ کے بعد موٹر کار بنی اور پھر ہوائی جہاز اور راکٹ تیار کیے گئے۔ ان تمام سواریوں کو بنانے کے لیے گائیڈ لائن لا آف نیچر کی صورت میں خود ان چیزوں کے اندر موجود تھی جس کو استعمال کر کے مختلف قسم کی سواریاں بنائی گئیں۔ مگر انسان کے بارے میں سب کچھ لامعلوم تھا۔ مثال کے طور پر انسان جب پیدا ہوتا ہے اور سماج کے اندر رہنا شروع کرتا ہے تو اس کے ذہن کی کنڈیشننگ ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ ہر آدمی مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے، یہ کنڈیشننگ، آدمی کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page