اظہارِ دین
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی دنیا کے بارے میں بے آمیز رائے قائم کر سکے ۔ مگر یہ حقیقت صرف بیسویں صدی کے رُبع اول میں معلوم ہوسکی اور وہ بھی صرف پچاس فیصد ۔ یہ واقعہ پھر بھی لامعلوم رہا کہ کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اس کو دوبارہ فطری سوچ پر لایا جاسکتا ہے۔ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک قابلِ اعتماد گائڈ لائن ہے۔ مذکورہ سوال کا جواب قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ (22:8)۔ یعنی، اور لوگوں میں کوئی شخص ہے جو اللہ کی بات میں جھگڑتا ہے، علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سائنس میں ناکامی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے گائڈنس کے بغیر انسانی زندگی کو سمجھنا چاہا اور اس کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر انسانی سائنس ترقی سے محروم رہی۔ کیوں کہ جب گائڈنس موجود نہ ہو تو آدمی کو اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا، اور جب حقیقی نقطہ آغاز کو جانے بغیر سفر شروع کیا جائے تو ایسا سفر کبھی اپنی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔ خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر کسی پیچیدہ مشین کو بنانے والا انجینئر ہی اس کی گائڈ بک دے سکتا ہے، یہی معاملہ موجودہ دنیا کا ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر زندگی کا جو تصور قائم کیا جائے گا، وہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہوگا۔ اور جو منصوبہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کے لیے ناکامی یقینی ہے۔ خدا کی کتاب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو ٹیسٹ کے لیے بنایا ہے۔ اس دنیا سے انسان کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو امتحان ہال سے ایک طالب علم کی ہوتی ہے۔ امتحان ہال میں کوئی طالب علم اس لیے جاتا ہے کہ وہاں وہ مطلوب ٹیسٹ دے کر اپنے آپ کو اس بات کا اہل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader