Urdu book · اظہارِ دین

لاشعور کی سطح پر معرفت

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آغازِ حیات سے اب تک بہت کم لوگ ایسے نکلے جو اپنے اس لاشعور کو پڑھیں، جو اپنی فطرت کی اس داخلی آواز کو سن سکیں۔ اس فطری معاملے کی بنا پر ایسا تو ہوا کہ ہر شخص کسی نہ کسی درجے میں حق کا متلاشی (seeker) بنا، لیکن بہت تھوڑے افراد کو چھوڑ کر، کوئی بھی اپنی تلاش کو اس کی آخری منزل تک نہ پہنچا سکا۔ اس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۃ القیامہ میں ارشاد ہوا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ - وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (75:14-15)۔ یعنی، حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر آپ گواہ ہے، خواہ وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔ اس قرآنی بیان سے معلوم ہوا کہ انسان کی اس ناکامی کا اصل سبب اعذار (excuses) ہیں۔ انسان کی داخلی فطرت ہر موقع پر اس کی خاموش رہنمائی کرتی ہے۔ اسی فطرت کو قرآن میں داخلی برہان (12:24) کہا گیا ہے۔ لیکن انسان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک عُذر (excuse) لے کر، فطرت کی اس آواز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی زندہ یا مردہ ہستی کو بڑا مان کر اُس کی پرستش شروع کر دے گا۔ پھر اُس کا ربانی لاشعور اندر سے اس کو آواز دے گا کہ پرستش تو صرف خالق کا حق ہے، تم مخلوق کی پرستش کیوں کر رہے ہو۔ مگر یہاں اس کا ذہن ایک خود ساختہ عذر تلاش کرلے گا۔ وہ کہے گا کہ میں اس زندہ یا مردہ ہستی کو خدا نہیں مانتا، بلکہ ان کو خدا کا مقرب مانتا ہوں۔ یہ لوگ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ میرے لیے خدا کے یہاں وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے میں ان کے آگے جھک کر ان کو راضی کر رہا ہوں، تاکہ وہ خدا کے یہاں میرے سفارشی بن سکیں۔ اس قسم کا عذر بلا شبہ ایک بے بنیاد عذر رہے۔ وہ ہر گز خدا کے یہاں قبول کیا جانے والا نہیں۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس قسم کے خود ساختہ خیال میں جیتے رہے اور اسی میں مر گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page