Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح ایک شخص کسی معاملے میں ایک آدمی کے اوپر غصہ ہو جائے گا۔ وہ اس سے انتقام لینا چاہے گا۔ اب اس کے اندر کی خدائی آواز اس کو پکارے گی اور کہے گی کہ انتقام لینا ایک گناہ کا کام ہے۔ تم اُس شخص سے درگزر کا معاملہ کرو اور اس کو معاف کردو۔ مگر اس کا ذہن فوراً ایک عذر تلاش کر لے گا۔ وہ کہے گا کہ ایسے آدمی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اگر تم اس وقت خاموش ہوگئے تو وہ اور دلیر ہو جائے گا اور تمھارے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔ یہ عذر بھی ایک بے بنیاد عذر ہے۔ ایسا عذر کبھی خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ لیکن بے شمار لوگ اِس خود ساختہ عذر میں جیتے ہیں اور اسی میں مرجاتے ہیں۔ شعور کی سطح پر معرفت لاشعور کی سطح پر معرفت کا انتظام کرنے کے بعد اللہ تعالی نے شعور کی سطح پر انسان کی ہدایت کے لیے دوسرا انتظام فرمایا۔ اب خدا نے معرفت کو منطوق آواز (spoken language) کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہ کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ اس مقصد کے لیے خدا نے مسلسل طور پر پیغمبر بھیجے ۔ ان پیغمبروں کو خدا نے بذریعہ وحی، معرفت کا علم دیا۔ پھر انھوں نے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو زندگی کی اِس حقیقت سے باخبر کیا، تا کہ لوگ شعور کے درجے میں اُس معرفت کو حاصل کر سکیں، جو لاشعور کے درجے میں ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ حصولِ معرفت کا یہ دوسرا انتظام بھی انسان کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ انسان، پیغمبروں اور داعیوں کی ساری کوشش کے باوجود وہ ان کو نظر انداز کرتا رہا۔ وہ پیغمبروں کی تمام تر دعوتی جدوجہد کے باوجود شعور کی سطح پر حقیقت کو دریافت نہ کر سکا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورۂ یس میں ارشاد ہوا ہے: يَحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page