شعور کی سطح پر معرفت
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
(36:30)۔ یعنی، افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا استہزا کرتے رہے: Alas for human beings! They ridicule every prophet that comes to them. کوئی آدمی جب کسی کا استہزا کرتا ہے، یا اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کو حقیر سمجھنا۔ چنانچہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قدیم عرب میں پیغمبر کی حیثیت سے آئے، تو وہاں کے سرداروں نے کہا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (43:31)۔ یعنی، یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کے ایک اور بیان سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورۃ الانعام کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اور وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملے کا فیصلہ ہو جاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، تو اُس کو بھی ہم آدمی بناتے اور اُن کو اُسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا، تو اُن میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا، اُن کو اْس چیز نے آھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“ (10:6-8)۔ قرآن کا یہ بیان پیغمبروں کی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر بظاہر عام انسانوں کی طرح انسان ہوتا تھا۔ اس لیے جب خدا اْس پر وحی بھیجتا اور وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمھارے پاس بھیجا ہے، تو وہ یہ دیکھ کر اس کو نظر انداز کر دیتے کہ تم تو ہم کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتے ہو، پھر کیوں ہم تم کو خدا کا پیغمبر مانیں۔ اس کا جواب مذکورہ آیت میں یہ دیا گیا کہ خدا کے قانون کے مطابق، یہ التباس کا ایک معاملہ ہے۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہ کا عنصر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader