شعور کی سطح پر معرفت
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
(element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اس مصلحت کی بنا پر یہی ہوگا کہ خدا کا پیغام کسی غیر معمولی فرشتے کے ذریعے نہیں دیا جائے گا، بلکہ ایک انسان کے ذریعے دیا جائے گا۔ تم سچائی کو صرف اُسی وقت پاسکتے ہو جب کہ تم شبہ کے پردے کو پھاڑ و اور خالص جوہر ذاتی (merit) کی بنیاد پر حق کے داعی کو پہچانو۔ معرفت بذریعہ آیات کائنات اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معرفت حق کے لیے ایک اور انتظام کیا۔ یہ انتظام تھا— خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو ظاہر کرنا۔ اس خدائی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورۂ حم السجدہ میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ قرآن حق ہے“ (41:53)۔ خدا نے اپنے اس خصوصی منصوبہ کو موجودہ زمانے میں سائنس دانوں کے ذریعے پورا کیا۔ موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے عالم طبیعیات (physical world) میں جو دریا فتیں کی ہیں، وہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ کا مشاہداتی اظہار ہیں۔ خدا نے اپنے پیغمبر ابراہیم کو مَلَکُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (6:75)۔ یعنی، دکھا دی آسمانوں اور زمین کی حکومت۔ کا خصوصی مشاہدہ کرایا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نشانیوں (sign) کو خود علم انسانی کے ذریعے عمومی سطح پر لوگوں کے لیے قابل مشاہدہ بنا دیا۔ موجودہ زمانے میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ راقم الحروف نے بھی اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ امریکا کے ایک سائنس داں ڈاکٹر کرلیسی ماریسن (وفات 1951) نے اس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ٹائٹل (Man Doesn't Stand Alone) ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ اس عربی ایڈیشن کا نام بامعنیٰ طور پر یہ ہے: اَللَّهُ يَتَجَلَّى فِي عَصْرِ الْعِلْمِ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader