شعور کی سطح پر معرفت
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر دوبارہ ایسا ہوا کہ بہت کم ایسے انسان نکلے جو اس سائنسی انقلاب سے معرفت کی غذا لے سکیں۔ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت نے دوبارہ یہ غلطی کی کہ اُس نے انحراف کا ایک طریقہ اختیار کیا اور انسان دوبارہ معرفت کے حصول سے محروم رہا۔ اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے دو شعبے ہیں۔ ایک ہے، نظریاتی سائنس (theoretical science)، اس کا دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس کامل طور پر معرفت کی سائنس تھی۔ اُس کے مطالعے سے انسان، خدا کو اور خدائی حقیقتوں کا علم حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن انسان نے نظریاتی سائنس سے یہ خدائی رزق نہیں لیا، وہ بدستور معرفت سے محروم رہا۔ انطباقی سائنس وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ٹیکنکل سائنس (technical science) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے ایک نئی ٹکنالوجی دی۔ اس جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نئی مشینین بنیں، نئی قسم کی بلڈنگیں تیار کی گئیں، نئی قسم کی سواریاں بنیں، نئی قسم کی اشیاء صرف (consumer goods) وجود میں آئیں۔ سماجی ترقی کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے، وغیرہ۔ مذکورہ قسم کی صنعتی ترقیوں سے جدید انداز کے پرکشش شہر وجود میں آئے۔ ان ترقیوں کے نتیجے میں انسان کو عیش اور راحت کا جو سامان ملا، وہ مادی اعتبار سے اتنا پرکشش تھا کہ انسان اس میں کھو گیا۔ انسان نے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھا کہ جدید ترقیوں کے بعد اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت بنا سکے۔ وہ بعد از موت دورِ حیات (post death period) میں ملنے والی جنت کا انتظار نہ کرے، بلکہ قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) میں اپنی جنت بنا کر اُس میں عیش کی زندگی گزارے۔ جدید سائنس ، انسان کے لیے معرفت کی روشنی تھی، لیکن انسان اُس سے معرفت کی روشنی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس طرح یہ ہوا کہ خدا نے معرفت کا جو تیسرا دروازہ کھولا تھا، وہ بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader