Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی نادانی سے اس کے اوپر بند پڑا رہا۔ معرفت بذریعہ فائنل اظہار خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسان سے جو معرفت مطلوب ہے، وہ براہِ راست مشاہدہ کے بغیر مطلوب ہے۔ اسی بلا مشاہدہ معرفت کو قرآن میں ایمان بالغیب (2:3) کہا گیا ہے۔ اوپر معرفت کے جن تین درجوں کا ذکر کیا گیا، اُن کا تعلق اسی قسم کی بلا مشاہدہ معرفت سے ہے۔ انسان کی پچھلی تاریخ ، معرفت کے اُنھیں تینوں درجات کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ مگر جب انسان اس نوعیت کی معرفت کے حصول میں ناکام رہے، تو وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ حقیقت سے پردہ اٹھادیا جائے، تا کہ انسان اُن حقیقتوں کو براہِ راست طور پر دیکھ لے جن کو وہ بالواسطہ طور پر دیکھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔ اس نوعیت کی چند قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ اور صور پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہو گا۔ ہر شخص اس طرح آ گیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس دن سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمھارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، تو آج تمھاری نگاہ تیز ہے“(22: 19-50)۔ مذکورہ قرآنی آیت میں انسانی تاریخ کے آخری دور (final phase of human history) کا ذکر ہے۔ انسانی تاریخ کے اسی آخری دور کا دوسرا نام قیامت (Doomsday) ہے ۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب اس آخری دور کے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آ پہنچا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طور پر جس گلوبل وارمنگ ( global warming) کی خبر دے رہے ہیں، وہ دراصل گلوبل وارننگ (global warning) ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page