فائنل اظہار
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس دانوں کے مشاہدے کے مطابق، انسانی تاریخ کے خاتمہ کا عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ زمین کے اوپر قائم کردہ لائف سپورٹ سسٹم بالکل تباہ ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد دنیا انسان کے لیے ناقابل رہائش (inhabitable) بن جائے گی۔ جدید سائنسی مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تباہی کا یہ عمل اتنا زیادہ مہلک ہے کہ وہ اب ناقابلِ اعادہ (irreversible) بن چکا ہے۔ اب اس کو دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹایا نہیں جا سکتا۔ قرآن کے مطابق، دنیا کا آخری خاتمہ اُس وقت ہوگا جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے۔ تاہم اِس آخری انجام سے پہلے خدا کچھ نشانیاں ظہور میں لا رہا ہے۔ یہ انسان کے لیے گویا آخری موقع ہے، تا کہ اب سے وہ ہوش میں آئے اور اپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنالے ۔ موجودہ گلوبل وارمنگ اور اُس سے پیدا ہونے والے حالات اِسی قسم کی ایک پری فائینل وارننگ (pre-final warning) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ دراصل قربِ قیامت کی علامت (sign) ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس علامت کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ سخت گرمی کے نتیجے میں سمندروں کا پانی کھولنے لگے گا۔ چنانچہ فرمایا: وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ (81:6)۔ یعنی، جب سمندروں کو ( آگ سے ) بھڑک دیا جائے گا: And when the seas are set on fire (81:6) قیامت سے پہلے پیش آنے والی اِس حقیقت کو حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2421)۔ یعنی، جب قیامت کا دن قریب آجائے گا تو سورج انسان کے قریب ہو جائے گا۔ سورج کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی قریب آجائے گی۔ موجودہ زمانے میں جس سائنسی انقلاب کا ظہور ہوا، وہ خدا کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader