فائنل اظہار
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے نیچر (Nature) میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں تا کہ انسان اُن سے سبق لے اور خالق کی معرفت حاصل کر کے خالق کی ابدی رحمتوں کا مستحق بنے۔ مگر انسان نے ان چیزوں کو صرف اپنے مادی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اور بظاہر شان دار صنعتی تمدن کی ایک دنیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔ صنعتی دریافتوں کا مقصد خالق کی معرفت کا حصول تھا، نہ کہ خود اپنے لیے مادی عیش کی ایک دنیا بنانا۔ یہ سائنسی دریافتوں کا ایک غلط استعمال (misuse) تھا۔ خدا نے اس کو پسند نہیں کیا۔ اس بنا پر مختلف قسم کی صنعتی خرابیاں (industrial evils) پیدا ہوگئیں ۔ مثلاً وہ خرابی جس کو گرین ہاؤس گیس، یا کاربن ایمشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ کاربن ایمیشن کوئی نیا مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے یہ تھا کہ خدا کا بنایا ہوا فطری نظام اس کاربن کو اپنے اندر جذب (absorb) کرلیتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ خدا کے فطری نظام نے صنعتی کاربن کو جذب کرنا چھوڑ دیا۔ انسان کے پاس اس نظام کا کوئی بدل موجود نہ تھا، اس لیے انسانی سرگرمیاں دھیرے دھیرے صنعتی کثافت (industrial pollution) کی صورت اختیار کرگئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ایک قسم کا گیس چیمبر (gas chamber) بن گئی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں بطور خود اپنی ایک جنت بنا سکے۔ جس طرح موجودہ عارضی دنیا کی تخلیق خدا نے کی ہے، اُسی طرح ابدی جنت کی تخلیق خدا ہی کرسکتا ہے۔ کسی اور کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ اس معاملے کا ایک علامتی واقعہ وہ ہے جو حال میں پیش آیا۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے بڑے رقبے میں ہرے بھرے جنگل ہیں۔ اس جنگل کے کنارے ایک دریا بہتا ہے۔ یہ علاقہ نہایت خوب صورت علاقہ ہے۔ جنگل کے دوسری طرف جدید طرز کا ایک ٹاؤن بنایا گیا۔ اس کی خوب صورتی کی بنا پر اس کا نام پیراڈائز (Paradise) رکھ دیا گیا ، یعنی جنت۔ یہاں کے لوگ خوشی اور راحتوں کی زندگی گزار رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader