مسیحی پوپ کا بیان
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت مقصدِ انسانیت علما نے معرفت کو واجبِ اول بتایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معرفت مقصدِ انسانیت ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی آغازِ معرفت کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تکمیلِ معرفت کی زندگی۔ موجودہ دنیا میں ایک انسان ابتدائی دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ کامل دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی ایک فکری عمل (intellectual process) ہے۔ یہ فکری عمل موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ابدی طور پر آخرت کی دنیا میں جاری رہے گا۔ قرآن کی سورۃ الذاریات میں بتایا گیا ہے کہ جن اور انس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے (51:56)۔ اس آیت میں عبادت سے مراد معرفتِ الٰہی ہے۔ آیت کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس اور علی بن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔ یہی جن وانس کا مقصدِ تخلیق ہے۔ اس مقصد کا تقاضا تھا کہ جن وانس کو وہ صلاحیت کمال درجے میں عطا کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ درجے میں معرفتِ خداوندی کو حاصل کر سکیں۔ چنانچہ جن وانس کو ایک طرف وہ اعلیٰ دماغی صلاحیت دی گئی جو اس عظیم مقصد کے لیے مطلوب تھی۔ اور اسی کے ساتھ خارجی اعتبار سے، اُن کو وہ وسائل دیے گئے جو اس مقصد کی تکمیل میں مددگار بن سکیں۔ معرفت کے لفظی معنی ہیں— اِدراک (realisation)، یعنی کسی چیز کو کامل درجے میں پہچاننا۔ معرفت کو دوسرے لفظوں میں شعوری دریافت (intellectual discovery) کہہ سکتے ہیں۔ یہ دریافت کسی وقتی واقفیت کا نام نہیں ہے، یہ ایک لمبے سفر کا نام ہے۔ انسان کو جس خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے، اس کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور تمام موجود سمندروں اور مزید سات سمندروں کو روشنائی (ink) بنا دیا جائے اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندر ختم ہو جائیں گے، لیکن خدا کے کلمات نہ ہوں گے (31:27)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader