Urdu book · اظہارِ دین

سائنس اور الہیات

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ سائنس ناقابلِ حل سوالات سے دوچار ہے۔ مثلاً طبیعیات کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ حالت میں کیوں قائم ہیں،۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کر رہے تھے کہ یہ قوانین، کائنات کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس (Martin Rees) جو کہ ’رائل سوسائٹی‘ کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائناتی نظام کے متفرق حصے ہیں۔ ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اس نظام کو متعدد کائناتی نظام (the multiverse system) کہتے ہیں۔ ان تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے جو موافق حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاں انسان کا قیام ناممکن ہو جاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طور پر کنٹرول کر رہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔ تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک، یہ ہے کہ مذہب اور جدید سائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کر رہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہ کے لیے ایک ایسے ڈیزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اس مسئلے کی کوئی توجیہ نہیں۔ کیوں کہ یہ توجیہ فوراً یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ڈیزائنر نے اگر کائنات کو بنایا تو خود ڈیزائنر کو کس نے بنایا: Who designed the designer اگر زندگی کی کوئی آخری معنویت (ultimate meaning) ہے، جیسا کہ میں یقین رکھتا ہوں، تو یہ جواب خود نیچر کے اندر ملنا چاہیے، نہ کہ اُس سے باہر۔ کائنات ایک محکم کائنات ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایسا ہے تو کائنات نے خود ہی اپنے آپ کو ایسا بنایا ہے۔‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page