Urdu book · اظہارِ دین

چھٹا دور

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

چھٹا دور معرفت الہی کا چھٹا دور آخرت کا دور ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں — قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعد کا دور۔ قیامت سے پہلے کا دور عارضی دورِ حیات ہے۔ اور قیامت کے بعد کا دور حیات ابدی دور حیات ۔ قیامت سے پہلے کے دور میں انسانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ قیامت کے بعد کے دور میں تمام انسانوں کو اُن کے پچھلے ریکارڈ کے مطابق، آخرت کی دنیا میں آباد کیا جائے گا۔ قیامت سے پہلے کے دور میں معرفت کا حصول کا جو پر اسس شروع ہوا، اس کی تکمیل آخرت کے دور میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں معرفت کا حصول صرف زمان و مکان (space and time) کے اندر محدود طور پر انجام پاسکتا تھا۔ لیکن آخرت کی دنیا میں معرفت کا سفر زمان ومکان سے ماورا (beyond space and time) لامحدود طور پر انجام پائے گا۔ موجودہ دنیا میں یہ عمل صرف غیر معیاری (imperfect) درجے میں انجام پاسکتا تھا، آخرت کی دنیا میں یہ عمل معیاری (perfect) طور پر تکمیل کے درجے میں انجام پائے گا۔ معرفت کا حصول انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ اس سفرِ معرفت کا آغاز موجودہ دنیا میں ہوا، اس سفر معرفت کی تکمیل آخرت میں جنت کی دنیا میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو ہر چیز بقدر ضرورت دی گئی تھی (34:14)، آخرت کی جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ اشتہادی جائیں گی (31:41)۔ اس جنت کی وسعت کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَسَارِعُوْا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133:3)۔ یعنی، دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اوراُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page