ختم نبوت
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
ختم نبوت اسلامی عقیدے کے مطابق، پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اُسی وقت سے شروع ہو گیا جب کہ انسان کو پیدا کر کے اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا گیا ہے۔ آدم، پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر (مسند احمد، حدیث نمبر 17446 ؛ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 807)۔ اس کے بعد ہر دور اور ہر نسل میں مسلسل طور پر پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کا پیغام دیتے رہے (23:44)۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ پر خدا نے اپنی کتاب قرآن اتاری۔ اس کتاب میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ محمد، اللہ کے رسول ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ نبیوں کے خاتم (33:40) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاتم، یا سیل (seal) کے معنی کسی چیز کو آخری طور پر مہر بند کرنے کے ہیں، یعنی اس کا ایسا خاتمہ جس کے بعد اس میں کسی اور چیز کا اضافہ ممکن نہ ہو: Seal: To close completely پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ختم نبوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ: لا نَبِيَّ بَعْدِي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3455)۔ یعنی، میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔ ختم نبوت کا مطلب ختمِ ضرورت نبوت ہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اس لیے ختم کر دیا گیا کہ اس کے بعد نئے نبی کی آمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ جیسا کہ معلوم ہے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ وہ کامل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اور جب دین خداوندی محفوظ ہو جائے، تو اس کے بعد یہی محفوظ دین، ہدایت حاصل کرنے کا مستند ذریعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی ہدایت کو جاننے کے لیے اصل ضرورت محفوظ دین کی ہے، نہ کہ پیغمبر کی۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورۃ المائدہ میں ایک آیت ہے، جس کے بارے میں بعض اہل علم کا قول ہے کہ وہ نزول کے اعتبار سے قرآن کی آخری آیت ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader