Urdu book · اظہارِ دین

ختم نبوت

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

لَكُمُ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (5:3) ۔ یعنی، آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ قرآن کی اس آیت کے تین جز ہیں : 1۔ آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا، یعنی یہ آیت قرآن کی آخری آیت ہے۔ اس آیت کے ساتھ قرآن کا نزول مکمل ہوگیا۔ 2۔ میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کر دیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔ 3۔ اور میں نے اسلام کو بحیثیت دین تمھارے لیے پسند کر لیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دینِ خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اس بنا پر ان پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعد اُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چنانچہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنو اسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی۔ اس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کو استثنائی طور پر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میں اس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ وہ دس ہزار قُدسیوں کے ساتھ آیا : He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی صدی ہجری میں مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ ہجرت (622 ء) کے آٹھویں سال آپ فاتحانہ طور پر دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ موجود تھے۔ اس کے بعد اپنی وفات سے تقریباً ڈھائی مہینے پہلے جب آپ نے آخری حج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page