ختم نبوت
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
ادا کیا اور عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا، اُس وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اِس کے بعد 632 عیسوی میں جب مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی، اُس وقت عرب کے تقریباً تمام لوگ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور آپ کے اصحاب کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ معاملہ ہوا کہ آپ کو اتنی بڑی تعداد میں قابلِ اعتماد رفقا حاصل ہو گئے ۔ یہ ایک انتہائی طاقت ور ٹیم تھی۔ مورخین کی شہادت کے مطابق ، اِس ٹیم کا ہر فرد ایک ہیرو (hero) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت عرب کے باہر دو بڑے ایمپائْر موجود تھے ــــ بازنتینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر ( Byzantine Empire & Sassanid Empire ) ــــ یہ دونوں ایمپائر اسلامی مملکت کے خلاف ہو گئے۔ اِس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اِس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو جیت ہوئی اور دونوں ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گئے ۔ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کو بائبل میں بطورِ پیشین گوئی اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ـــ ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے : And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3:6) اِس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت جلد بعد ایک عظیم مسلم سلطنت بن گئی جو اسلام کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اصحاب رسول اور اہلِ اسلام کا یہ سیاسی غلبہ تاریخ کا ایک استثنائی واقعہ تھا۔ مورخین نے عام طور پر اِس کا اعتراف کیا ہے۔ انڈیا کے ایک مورخ ایم این رائے (وفات 1954) کی ایک کتاب ( The Historical Role of Islam ) پہلی بار 1939 میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اِس کتاب میں انھوں نے اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے اُس کو تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرار دیا ہے : The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader