Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب، قرآن کی حفاظت کے کام میں مسلسل طور پر مشغول ہو گئے ۔ قرآن کو یاد کرنا، قرآن کو لکھنا، قرآن کا چرچا کرنا، یہی اُن کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ اس طرح، اصحابِ رسول کی جماعت گویا کہ ایک زندہ کتب خانہ بن گئی۔ پھر جب مسلم سلطنت قائم ہوئی تو حفاظتِ قرآن کی مہم کو ایک سیاسی طاقت کی تائید بھی حاصل ہوگئی۔ حفاظت قرآن کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک غیر منقطع طور پر چلتا رہا۔ یہ کسی کتاب کی حفاظت کا ایک استثنائی معاملہ تھا جو قدیم زمانے میں کسی بھی کتاب کے ساتھ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دنیوی کتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔ حفاظتِ قرآن پچھلے زمانے میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو پیغمبر آئے، وہ سب اپنے ساتھ خدا کی کتاب اور صحیفے لائے۔ مگر یہ کتابیں اور صحیفے بعد کو محفوظ نہ رہ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی پیغمبر کے گرد اُس کے ساتھیوں کی کوئی مضبوط ٹیم اکٹھا نہ ہوسکی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے پیروؤں (followers) کی ایک مضبوط ٹیم حاصل ہوگئی۔ یہ ٹیم قرآن کی حفاظت کی ضامن بن گئی۔ ایک مستشرق (orientalist) نے اِس معاملے کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے فوراً بعد آپ کے اصحاب، حفاظتِ قرآن کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انھوں نے اِس مقصد کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے بعد قرآن کی حفاظت میں کسی قسم کا احتمال سرے سے باقی نہیں رہتا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں کی تعداد میں ایسے اصحاب رسول موجود تھے جن کو پورا قرآن بخوبی طور پر یاد تھا۔ نیز یہ کہ پیغمبر اسلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page