Urdu book · اظہارِ دین

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

طریقہ یہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو آپ اُسی وقت اُس کو قدیم طرز کے کاغذ (قرطاس) پر لکھوا دیتے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ زید بن ثابت الانصاری (وفات 665ء) کی قیادت میں ایک ٹیم بنائی۔ اس ٹیم نے قرآن کی تمام تحریروں کو اکٹھا کیا۔ اِس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے تحریری ذخیرے کا تقابل حافظے سے کیا، اور حافظے کا تقابل تحریری ذخیروں سے کیا۔ اس ڈبل چیکنگ کے بعد انھوں نے قرآن کا ایک مستند نسخہ (authentic copy) لکھ کر تیار کیا۔ یہ نسخہ چو کور صورت میں تھا، اِس لیے اُس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ یہ ربعه، قرآن کا مستند نسخه قرار پایا۔ لوگوں نے اِس نسخے کی مزید نقلیں تیار کیں۔ اِس طرح وہ مسلم دنیا میں ہر طرف پھیل گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام مسلسل طور پر ایک زندہ موضوع بن گیا۔ اہلِ اسلام، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک بڑے رقبے میں ہر جگہ پھیل گئے۔ اِن لوگوں کی تقریراور تحریر کا موضوع اسلام تھا۔ قرآن کی کتابت، قرآن کی تفسیر، حدیث کی تدوین، حدیث کی شرح، پیغمبر اسلام کی سیرت، اصحابِ رسول کے حالات، اسلام کی تاریخ، فقہ کی ترتیب و تدوین، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سیکڑوں سال تک یہ موضوعات لاکھوں اہل اسلام کے درمیان تقریر اور تحریر کا موضوع بنے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام قرآن ہی کے ذریعے کیا جاتا تھا، اس لیے دعوت و تبلیغ کے دوران بھی مسلسل طور پر قرآن کو پڑھنے اور سنانے کا عمل جاری رہا۔ یہ ایک ڈبل حفاظت کا معاملہ تھا۔ اس عمل کے دوران ایک طرف، قرآن اور حدیث کی حفاظت ہوئی اور اسی کے ساتھ عربی زبان ایک زندہ اور محفوظ زبان بنتی چلی گئی۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ فرانس کا حکمران نپولین (وفات 1821) 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی لے آیا۔ اس سے پہلے کاغذ سازی کی صنعت 751 عیسوی میں سمرقند میں آچکی تھی۔ اس طرح، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ایک ہزار سال بعد قرآن اور علوم قرآن کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page