Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

حفاظت پرنٹنگ پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے دستیاب ہونے لگے۔ دورِ طباعت میں داخل ہونے کے بعد قرآن آخری طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اس کے بعد قرآن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ ختم نبوت کے حق میں یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد استثنائی طور پر ایسے اسباب پیدا ہوئے جو خدا کی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یقینی تدبیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تدبیر اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی، یعنی قرآن کامل طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اور جب خدا کی ہدایت کتاب کی صورت میں محفوظ ہو جائے تو ایسی کتاب پیغمبر کا بدل بن جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ رسول کی بعثت کا مقصد ایک روایت کے مطابق، دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ ان تمام پیغمبروں کا مقصد صرف ایک تھا_ انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ تمام پیغمبروں نے مشترک طور پر یہی ایک کام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ خدا نے کیوں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات (pre-death period) میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دورِ حیات (post-death period) میں اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اسی کو قرآن میں إنذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ یہی إنذار اور تبشیر تمام پیغمبروں کا مشترک مشن تھا۔ اس کے سوا کوئی چیز اگر کسی پیغمبر کی زندگی میں نظر آتی ہے، تو وہ اس کی زندگی کا ایک اضافی پہلو (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی پہلو (real part)۔ موجودہ دنیا میں انسان کی دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مادی ضرورت، جس کی تکمیل فزیکل سائنس (physical science) کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page