Urdu book · اظہارِ دین

رسول کی بعث کا مقصد

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ اُس کے پاس وہ خدائی ہدایت (divine guidance) موجود ہو جس کا اتباع کر کے وہ آخرت میں کامیاب زندگی حاصل کرے ۔ اِس دوسری ضرورت کی تکمیل پیغمبرانہ الہام سے ہوتی ہے۔ تقریب فہم کے لیے اِس کو ہم ریلیجس سائنس (religious science) کہہ سکتے ہیں۔ فزیکل سائنس میں آخری سائنٹسٹ (final scientist) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ فزیکل سائنس میں مسلسل طور پر ترقی کا عمل جاری رہتا ہے ۔ اِس لیے اِس میدان میں کوئی سائنٹسٹ آخری سائنٹسٹ نہیں ہوسکتا ۔ اِس کے برعکس، ریلیجس سائنس ایک ہی خدائی ہدایت (divine guidance) پر مبنی ہوتی ہے ۔ یہ خدائی ہدایت غیر متغیر طور پر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے ۔ اِس لیے ریلیجس سائنس میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ کوئی آخری پیغمبر (final prophet) ہو جو انسان کو خدا کا آخری کلام (final word) دے دے، اور انسانیت کا قافلہ اس کی رہنمائی میں بھٹکے بغیر مسلسل طور پر اپنے سفر حیات کو جاری رکھے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر پیغمبر ایک ہی ابدی ہدایت لے کر لوگوں کے پاس آیا۔ لیکن بشری تقاضے کے تحت جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی خدائی ہدایت محفوظ نہ رہ سکی۔ اِس لیے بار بار یہ ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آئے اور وہ انسان کو دوبارہ مستند ہدایت عطا کرے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی لائی ہوئی خدائی ہدایت، قرآن اور سنت کی شکل میں کامل طور پر محفوظ ہوگئی، اِس لیے آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پیغمبر کا آنا ایک بے حد سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ جب ایک زندہ پیغمبر موجود ہو تو اُس وقت انسان کے لیے ایک ہی انتخاب (option) باقی رہتا ہے، یہ کہ وہ پیغمبر کا اقرار کرے۔ اقرار نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کے معاصرین کو ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔ اِس لیے خدا کی یہ اسکیم نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ایک زندہ پیغمبر موجود رہے۔ خدا کی اسکیم کے مطابق، اصل مطلوب یہ ہے کہ خدا کی ہدایت ہمیشہ محفوظ اور غیر محرف حالت میں موجود رہے ۔ جب خدائی ہدایت کا متن (text) محفوظ ہوجائے اور اُس میں تحریف کا امکان باقی نہ رہے، تو زندہ پیغمبر کا موجود ہونا، غیر ضروری ہو جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page