Urdu book · اظہارِ دین

رسول کی بعث کا مقصد

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ یہی واقعہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ خدا کی کتاب انسان کے لیے ایک بک آف ریفرنس (book of reference) کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جب ایک محفوظ بک آف ریفرنس دستیاب ہو جائے ، تو اس کے بعد نئے پیغمبر کی بعثت اپنے آپ غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت پیغمبر کے ذریعے خدا کی جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ قرآن میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہ دی گئی ہے (33:46) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تبدیلیٔ زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں ہے۔ زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو ۔ مثلاً مسح علی الخفین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا ۔ اب صنعتی ریشوں سے تیار کیے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورت موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے ۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے ، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا مسئلہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ما بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 263)، یعنی، میں تمھارے پاس اس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں: I have not been sent to you for this purpose.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page