رسول کی بعث کا مقصد
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح جب آپ مدینہ میں تھے تو وہاں کے حالات کے اعتبار سے بعض مسائل پیدا ہوئے، جو باغ بانی (horticulture) سے تعلق رکھتے تھے۔ وہاں کے لوگوں نے اس معاملے میں آپ سے مشورہ حاصل کرنا چاہا۔ آپ نے دوبارہ ان کو وہی جواب دیا جو آپ مکہ کے لوگوں کو دے چکے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 3263) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو: You know better about your worldly matters. آب پاشی، باغ بانی، فن تعمیر اور صنعت جیسی چیزوں کا تعلق انسانی تہذیب سے ہے۔ تہذیب کا عمل ہمیشہ انسانی تحقیق و جستجو پر مبنی ہوتا ہے۔ اس معاملے کو خدا نے انسان کے اپنے اوپر چھوڑ دیا ہے۔ تاہم جہاں تک ہدایت کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق خدائی وحی سے ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے لیے خدا نے وحی و نبوت کا سلسلہ جاری کیا۔ مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر الیکس کیرل (وفات (1944) نے 1935 میں ایک کتاب شائع کی ۔ اس کتاب کا نام - انسان نامعلوم (Man the Unknown) تھا۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اس کتاب کا نام - ہدایت نامعلوم (Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امورِ غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امورِ غیب کا علم رکھتا ہے۔ اس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہنمائی انسان کو دی جاتی رہی۔ اب اس خدائی رہنمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اس مستند کلام الہی ( word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہنمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جِئْتُ فَخُتِمَتُ الْأَنْبِيَاءُ (صحیح نمبر 2287)۔ یعنی، میں آیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader