Urdu book · اظہارِ دین

دلیل نبوت

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

دلیلِ نبوت پیغمبرِ اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں 570ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو 610ء میں خدا نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ پر قرآن اتارا ۔ آپ کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کے لیے آپ نے تقریباً 23 سال تک کام کیا۔ اس کے بعد 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ نے استثنائی طور پر اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت بنائی، جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول کی اس جماعت نے آپ کے مشن کو تکمیل کے درجے تک پہنچایا۔ رسول اور خاتم الانبیاء قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیاء بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیاء ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبع اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے ۔ مثلاً کارل مارکس ( وفات 1883) نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر یہ اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ انقلاب سب سے پہلے فرانس میں آئے گا، مگر اُس کا یہ اعلان واقعہ نہ بن سکا ۔ اسی طرح تاریخ میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں، جنھوں نے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کی جرات کی، مگر اس قسم کی ہر پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی، وہ تاریخی واقعہ نہ بن سکی۔ اس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page