اظہارِ دین
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں مدینہ میں یہ اعلان کیا کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات حیرت انگیز طور پر تاریخ کا ایک واقعہ بن گئی۔ یہ استثنا بلا شبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے اور اسی کے ساتھ نبیوں کے خاتم بھی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان قرآن میں بار بار کیا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (33:40)۔ یعنی، محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اس آیت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بھی تھے اور خدا کے آخری پیغمبر بھی۔ اسی طرح خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ: أَنَا النَّبِيُّ لَا أَكْذِبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2864؛ صحیح مسلم حدیث نمبر 1776)۔ یعنی، میں نبی ہوں، اس میں کوئی شک نہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3535؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2286؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4252؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2366؛ مسند احمد، حدیث نمبر 9167)۔ یعنی، میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ دعوائے نبوت نہیں یہ بات نہایت اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے تاریخی دور میں ساری دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنی زبان سے ان الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کرے کہ۔ میں خدا کا پیغمبر ہوں، بالکل اُسی طرح جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے: I am the prophet of God in the same sense in which Moses and Jesus and Muhammad claimed they were prophets of God. اور جب کوئی شخص ان الفاظ میں، نبوت کا دعویٰ کرنے والا نہیں اٹھا تو پیغمبر اسلام کا یہ دعویٰ اپنے آپ ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آپ کے اس اعلان کے بعد تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی شخص ایسا نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ اعلان کرے کہ۔ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس طرح آپ کا دعویٰ گویا کہ بلا مقابلہ اپنے آپ ثابت ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader