Urdu book · اظہارِ دین

دعوائے نبوت نہیں

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں کچھ نام بتائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے مُسیلمہ (وفات 633ء) نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کسی مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں ۔ اس طرح اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حیثیت دے دی۔ اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرکت نبوت سے انکار کیا تو اُس کا دعویٰ اپنے آپ ختم ہوگیا۔ اسی طرح آپ کے زمانے میں یمن میں ایک اور شخص پیدا ہوا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص اسود لعنسی (وفات 632ء) تھا۔ تاہم تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے خود اپنی زبان سے یہ کہا تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ میرے مطالعے کے مطابق، اُس کا کیس ارتداد اور بغاوت کا کیس تھا، نہ کہ دعوائے نبوت کا کیس۔ اسی طرح آپ کے بعد ابو المتنبی ( وفات 965ء) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ المتنبی ایک شاعر تھا اور نہایت ذہین آدمی تھا۔ اُس نے مزاحیہ طور پر ایک بار اپنے کو نبی جیسا بتایا، بعد کو اس نے اپنے اس قول کو خود ہی واپس لے لیا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے دو افراد پیدا ہوئے، جنھوں نے مذکورہ الفاظ میں، اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا— بہاء اللہ خاں ( وفات 1892) اور مرزا غلام احمد قادیانی (وفات 1908)، مگر تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔ بہاء اللہ خاں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں مظہر حق ہوں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں، جس طرح حضرت موسیٰ، حضرت مسیح اور حضرت محمد، خدا کے پیغمبر تھے۔ انھوں نے صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page