Urdu book · اظہارِ دین

مستقبل کی تصدیق

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک کا تصور غالب تھا۔ لوگ مخلوقات میں تعدّد دیکھتے تھے، اس لیے انھوں نے مان لیا کہ خدائی میں بھی تعدّد ہے، یعنی مختلف چیزوں کو مختلف خداؤں نے بنایا ہے۔ مثلاً پانی کو کسی اور خدا نے بنایا، اور پہاڑ کو کسی اور خدا نے بنایا، اور سورج کو کسی اور خدا نے بنایا، اور چاند کو کسی اور خدا نے بنایا، وغیرہ۔ انسانی علم مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کرتا رہا۔ اس مطالعے میں سیکڑوں سال بیت گئے۔ یہاں تک کہ سر آئیزاک نیوٹن (وفات (1727) کے زمانے میں یہ تعدّد گھٹ کر چار تک پہنچ گیا۔ نیوٹن کے زمانے میں سائنس دانوں نے یہ مان لیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں بہت سی نہیں ہیں، بلکہ صرف چار طاقتیں ہیں جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں: 1۔ قوّتِ کشش (gravitational force) 2۔ برقی مقناطیسی قوت (electoromagnetic force) 3۔ طاقت ور نیوکلیئر قوت (strong nuclear force) 4۔ کم زور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force) مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ نیوٹن کے زمانے سے کائنات کا جو سائنسی مطالعہ شروع ہوا تھا، اُس سے دن بدن یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ وسیع کائنات میں اگرچہ ان گنت چیزیں ہیں اور سب کی سب متحرک ہیں، لیکن ان تمام متحرک اور متنوع چیزوں کے درمیان حیرت ناک حد تک ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ تمام چیزیں کامل توافق کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ ہم آہنگی اور توافق اُس وقت ممکن نہیں ہو سکتی جب کہ کائنات کو متعدد طاقتیں کنٹرول کر رہی ہوں۔ چنانچہ سائنس دان مسلسل اس کوشش میں تھے کہ وہ اس معاملے میں تعدّد کو تو حد تک پہنچائیں۔ آخر کار برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ کام اطمینان بخش طور پر انجام دیا۔ اسٹیفن ہاکنگ، نظریاتی فرکس کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے خالص سائنسی متھڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی صرف ایک طاقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page