Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اس نظریے کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہا جاتا ہے ۔ اس طرح اس معاملے میں سائنسی نقطہ نظر اور توحید کا اسلامی نقطہ نظر دونوں ایک ہو گئے ۔ توحید کا نقطہ نظر جس کائنات کا تقاضا کر رہا تھا ، کائنات کی وہی نوعیت سائنسی مطالعے سے ثابت ہو گئی ۔ علم قلیل قرآن کی سورۃ الاسراء میں اعلان کیا گیا تھا کہ انسان کو صرف علمِ قلیل حاصل ہے (17:85) ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان تخلیقی طور پر محدودیت کا حامل ہے ۔ اپنی اس فطری محدودیت کی وجہ سے وہ صرف علم قلیل تک پہنچ سکتا ہے، علمِ کثیر کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں ۔ ایسی حالت میں انسان کو خدا کے پیغمبر کے اوپر ایمان لانا چاہیے ۔ پیغمبر وحی الہی کے ذریعے اُس بات کو جان لیتا ہے جس کو انسان اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتا ۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی ہدایت پیغمبر کے ذریعے حاصل کرے ۔ اس معاملے میں انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب موجود نہیں۔ قرآن میں یہ بات ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں کہی گئی تھی ۔ اُس وقت انسان اِس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا ۔ قرآن کی اِس تنبیہ کے باوجود بڑے بڑے فلسفیانہ دماغ علمِ کلّی کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ آخر کار کئی ہزار سال کی ناکام کوشش کے بعد جدید سائنس ظہور میں آئی ۔ جدید سائنس نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے دریافت کیے ۔ اب یہ یقین کیا جانے لگا کہ سائنسی مطالعے کے ذریعے انسان اُس مطلوب علم تک پہنچ جائے گا، جہاں تک پچھلے زمانے کا انسان نہیں پہنچ سکا تھا۔ یہ تلاش نیوٹن کے بعد سے عالمِ کبیر (macro world) کی سطح پر چلتی رہی ۔ آخر کار آئن اسٹائن (وفات 1955) کا زمانہ آیا، جب کہ انسانی علمِ عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا ۔ اب یہ معلوم ہوا کہ جس مادّے کو پہلے قابلِ مشاہدہ (visible) سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page