علم قلیل
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری تجزیے میں قابل مشاہدہ نہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ مان لیا گیا کہ سائنسی طریقہ انسان کو علمِ کُل تک پہنچانے میں حتمی طور پر نا کام ہے۔ سائنس کی یہ علمی ناکامی صرف عالمِ صغیر کی حد تک دریافت ہوئی تھی، مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ خود عالمِ کبیر بھی انسان کے لیے حتمی طور پر نا قابلِ مشاہدہ ہے۔ سائنس کے آلات مادی دنیا کے بارے میں انسان کو کُلّی علم تک پہنچانے سے عاجز ہیں۔ انسان جس طرح عالمِ صغیر کے بارے میں علم قلیل رکھتا ہے، اُسی طرح وہ عالمِ کبیر کے بارے میں بھی صرف علم قلیل کا حامل ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ یہ نظریہ بلیک ہول (Black Hole) کی دریافت کے بعد سامنے آیا۔ ایمسٹرڈم (ہالینڈ) میں ماہرینِ طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس 2007 میں ہوئی۔ اس موقع پر فرکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک امریکی سائنس داں جیمس واٹس (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ــ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتی، اِس لیے ہم اُس کو ڈائرکٹ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ موجودہ آلات کے ذریعے ہم اُن کا احاطہ نہیں کر سکتے: Dark matter cannot be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation — or not enough to be picked up by available tools. (The Times of India, New Delhi, September 23, 2007, p. 20) جیمس واٹس نے اپنے مذکورہ بیان میں مزید کہا کہ ــ ہم سمجھتے تھے کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر معلوم ہوا کہ ہم کائنات کے صرف چار فی صد حصے ہی کو براہ راست طور پر جان سکتے ہیں: We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ علم کے بارے میں مستقبل نے اُسی بات کی تصدیق کی جو بہت پہلے اُس کتاب میں کہہ دی گئی تھی جو پیغمبر اسلام، خدا کی طرف سے لائے تھے۔ دنیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader