Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑے بڑے دماغ اِس یقین کے ساتھ اپنی تلاش میں لگے ہوئے تھے کہ وہ علمِ کلّی تک پہنچ سکتے ہیں، مگر قرآن میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اپنی محدودیت کی بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود اپنی کوشش سے علم کلّی تک پہنچ سکے۔ آخر کار خود انسانی علم نے قرآن کے بیان کی تصدیق کردی۔ مستقبل نے انسانی مفروضے کو ردّ کردیا اور قرآن کے بیان کی کامل تصدیق کردی۔ دنیاۓ فانی کا نظریہ قرآن میں واضح الفاظ میں موجودہ دنیا کے بارے میں یہ تصور دیا گیا تھا کہ یہ زمینی سیارہ جس پر انسان آباد ہے، اس کی ایک محدود عمر ہے۔ یہاں انسان اپنے لیے جنت (paradise) کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ دنیا عارضی طور پر امتحان کے لیے بنی ہے اور اس کے بعد یہاں سے اُن تمام چیزوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس کی مدد سے انسان یہاں زندہ رہتا ہے اور اپنے لیے اپنی مطلوب دنیا بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں دو آیتیں نقل کی جارہی ہیں: 1۔ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَٰوَاتِ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (14:48)۔ یعنی، جس دن یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب ایک زبردست اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ 2۔ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۝ وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا (18:7-8)۔ یعنی، جو کچھ زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے، تا کہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنا دیں گے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق، موجودہ سیارۂ زمین پر جو زندگی بخش حالات ہیں، وہ حتمی طور پر ختم ہونے والے ہیں اور مسلسل ان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔ لیکن بڑے بڑے انسانی دماغوں نے اس کے برعکس نظریہ قائم کیا۔ سُقراط اور افلاطون اور ارسطو سے لے کر موجودہ زمانے کے رہنماؤں تک ہر ایک نے یہ نظریہ قائم کیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page