دنیائے فانی کا نظریہ
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
آئیڈیل دور کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ آئیڈیل اسٹیٹ ، آئیڈیل سماج اور آئیڈیل نظام ، وغیرہ ۔ اس معاملے میں لوگوں کا وہم (obsession) اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بار بار برعکس نتیجہ نکلنے کے باوجود انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ چارلس ڈارون (وفات 1882) کا عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ سامنے آیا تو اس کے وسیع تر انطبا ق کے تحت یہ یقین کر لیا گیا کہ انسان کی تمدنی تاریخ مسلسل بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ صنعتی سائنس کے ظہور کے بعد اس نظریے کو مزید تقویت ملی اور یہ یقین کر لیا گیا کہ موجودہ دنیا کو جنتی دنیا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) پہلی بار 1970 میں چھپی ۔ اس کتاب میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دنیا ترقی کر کے انڈسٹریل ایج (industrial age) میں پہنچی تھی ۔ وہ مزید ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج (super industrial age) کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ امریکہ کو اسپیس ٹکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی تو اُس نے اعلان کر دیا کہ اب ہم زمینی تہذیب سے آگے بڑھ کر خلائی تہذیب (space civilization) کے دور تک پہنچ رہے ہیں ۔ اب ہم زمین سے چاند تک سفر کریں اور وہاں سے مریخ (Mars) تک پہنچ جائیں گے : We want to build a space civilization for tomorrow from where humans can travel to the Moon and from there to Mars (The Times of India, September 26, 2007, p. 21). یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ہماری زمین پر وہ اختتامی دور شروع ہو گیا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے ۔ اقوام متحدہ کے تحت ، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا ۔ اس پینل میں ڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے ۔ ان سائنس دانوں کا تعلق دنیا کے ایک سوتیس (130) ملکوں سے تھا ۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی پر سرچ کے لیے تھا ۔ اس پینل نے اپنی ریسرچ مکمل کر کے اس کی تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کر دی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader