Urdu book · اظہارِ دین

دنیائے فانی کا نظریہ

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کسی ایک کانفرنس کی بات نہیں۔ آج کل تقریباً ہر روز میڈیا میں اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں۔ تمام دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے اسباب کا مسلسل خاتمہ ہو رہا ہے۔ کئی انواعِ حیات (species) اب تک ناموافق موسم کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (3 جنوری 2007) میں شائع ہوئیٔ۔ اُس کا عنوان یہ تھا—انتباہی نشانیاں (Warning Signs)۔ اس سلسلے کا ایک اور حوالہ یہ ہے۔ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050ء تک سطح ارض کا بڑا حصہ خشک ہو چکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں، جب کہ ایک ایک کر کے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جو کچھ ہونے والا ہے، اُس میں اگر بیس فی صد آدمی بھی زندہ بچ جائیں تو وہ بہت خوش قسمت انسان ہوں گے: We are on the edge of the greatest die-off humanity has ever seen. We will be lucky if 20% of us survive what is coming. (The Times of India, May 18, 2007, p. 22) گلوبل وارمنگ کا موضوع موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ برننگ ٹاپک (burning topic) بن چکا ہے۔ اس موضوع پر کثرت سے رپورٹیں اور مضامین اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ کسی کو مزید تفصیل جاننا ہو تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہ آسانی یہ تفصیلات جان سکتا ہے۔ غیر معمولی کامیابی ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب (The 100) میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام نے نہ صرف مذہبی سطح پر، بلکہ سیکولر سطح پر بھی استثنائی کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اعلیٰ کامیابی کے معاملے میں پوری انسانی تاریخ میں محمد کا کوئی ہم سر نہیں۔ اس سلسلے میں اُن کے چند جملے یہ ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page