اظہارِ دین
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
The most astonishing series of conquests in human history (p. 35). The largest empire that the world had yet seen (p. 35). The most influential political leader of all time (p. 39). It is this unparalleled combination of secular and religious influence which I feel entitles Muhammad to be considered the most influential single figure in human history (p. 40). یعنی محمد کی کامیابی پوری تاریخ میں عجیب ترین سلسلہ فتوحات کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اور اُن کے ساتھیوں نے تاریخ کا سب سے بڑا ایمپائر قائم کیا۔ وہ پوری تاریخ کے سب سے زیادہ با اثر سیاسی رہنما تھے۔ مذہبی اور سیکولر دونوں اعتبار سے ان کی اِس بے نظیر کامیابی کا تقاضا ہے کہ ان کو پوری تاریخ کا واحد سب سے زیادہ کامیاب انسان قرار دیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حقیقت اتنی زیادہ بدیہی ہے کہ عام طور پر مورخین نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے ایمپائر قائم ہوئے۔ مثلاً یونانی ایمپائر، رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر، برٹش ایمپائر، مگر کوئی بھی ایمپائر اسلامی فتوحات کے برابر نہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہ تاریخی استثنا ابھی تک قائم ہے۔ یہ اُن دلائل میں سے ایک دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ اور آپ کو خدا کی خصوصی مدد حاصل تھی۔ خدا کی مدد کے بغیر کوئی بھی شخص اس قسم کی استثنائی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ نظریہ امن امن کے بارے میں انسان ہمیشہ سوچتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں امن ایک قسم کا انتظامی معاملہ سمجھا جاتا تھا، یعنی امن ایک ایسی چیز تھی جس کو حاکمانہ اختیار کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت ارباب اختیار نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پیکس رومانا (Pax Romana)، پیکس برٹانکا (Pax Britanica)، پیکس امریکا نا (Pax Americana)، وغیرہ۔ مگر اس قسم کا سیاسی امن صرف جزئی طور پر کسی سماج کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ اہل علم کے درمیان مطلوب امن کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader