نظریہ امن
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے آغاز سے امن پر مبنی ایک باقاعدہ نظریہ (ideology) وجود میں آیا۔ اس کو عام طور پر پسی فزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ پسی فزم کے نظریے کے تحت موجودہ زمانے میں متعدد مفکرین پیدا ہوئے ۔ مثلاً سیموئل کانٹ (Samuel Cant)، مارکس ارہیلیس (Marcus Aurelius) اور مہاتما گاندھی وغیرہ۔ اس نظریے کی حمایت میں بہت سے مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس موضوع پر تقریباً دس صفحے کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں ہم صرف تین کتابوں کا نام درج کرتے ہیں: 1. Raymon Raymond Aron, Peace and War, 1966 2. E.L. Alen, Francis E. Pollard, The Case for Pacifism and Conscientious Objection, 1946 3. Aldous Huxley, An encyclopaedia of Pacifism, 1937 لیکن امن کے رہنما اور مفکرین کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام افراد جس امن تک پہنچے، وہ صرف ایک منفی امن (negative peace) تھا۔ جہاں تک مثبت امن (positive peace) کا تعلق ہے، وہاں تک کوئی بھی شخص نہ پہنچ سکا۔ امن کے تمام مفکرین جس امن کی بات کرتے ہیں، وہ جنگ اور تشدد کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ چنانچہ امن کی تعریف جنگ اور تشدد کی غیر موجودگی (absence of war and violence) سے کی جاتی ہے۔ اسی تصور کی بنا پر یہ تمام افراد مفروضہ دشمنان امن کے خلاف اقدام کرتے رہے ۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک ان دشمن طاقتوں کے خاتمے سے دنیا میں امن قائم ہوتا تھا۔ اس نظریہ امن میں امن کو مثبت قدر (positive value) کا مقام حاصل نہ ہوسکا۔ اس نظریہ امن میں امن کو صرف ایک طریقہ کار (method) کا درجہ حاصل ہوا، نہ کہ وسیع تر معنوں میں ایک نظریہ حیات (ideology) کا درجہ۔ پسی فزم (pacifism) کے معاملے میں مہاتما گاندھی کا نام نمایاں طور پر شامل ہے۔ لیکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader