نظریہ امن
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کا نظریہ امن بھی ایک منفی نظریہ امن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک خصوصی سیمنار ہوا۔ اس سیمنار کی مکمل رو داد نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’دی پائینیر‘ (26 جنوری 1997) میں شائع ہوئی۔ اس سیمنار میں راقم الحروف کے علاوہ حسب ذیل افراد شریک ہوئے— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبراتا مکھرجی، کے آر ملکانی۔ اس سیمنار کا موضوع یہ تھا — کیا گاندھی آج کامیاب ہوتے : Could Gandhi have succeeded today? میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گاندھی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، پھر وہ آج کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی کا مقصد ایک پر امن انقلاب لانا تھا، مگر اپنے پیشِ نظر مقصد کے مطابق، وہ کوئی پر امن انقلاب نہ لا سکے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ انقلاب نہ تھا، بلکہ محدود معنوں میں صرف حکمرانوں کی تبدیلی (coup) تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک نا گہانی انقلاب (coup) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی انقلاب۔ میری یہ تقریر بہ لفظ بہ لفظ مذکورہ اخبار میں چھپی۔ میری تقریر کے ایک جملے کو لے کر اخبار نے اُس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا: Gandhi presided over a non-violent coup, he didn't usher in a revolution. یہی معاملہ ہر اُس رہنما اور مفکر کا ہوا جو امن (peace) کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پر امن واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے ایک پر امن آئڈیا لوجی (peaceful ideology) درکار ہے۔ چوں کہ کوئی شخص پر امن آئڈیالوجی کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے وہ پر امن زندگی کی تشکیل بھی نہ کر سکا۔ رہنماؤں کی اِس ناکامی کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر ایک امن کو سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا، ہر ایک نے وقت کے سیاسی اقتدار کو امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھا، ہر ایک اس طرح سوچتا رہا کہ اگر امن کو حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی اقتدار کی رکاوٹ کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن کی ہر تحریک وقت کے سیاسی اقتدار سے ٹکرا گئی۔ فطری طور پر ارباب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader