Urdu book · اظہارِ دین

نظریہ امن

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

اقتدار نے بھی اپنی طاقت کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بدامنی اور انارکی (anarchy) تھی۔ اس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے ”گاندھیائی انڈیا“ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا۔ اس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اسی لیے قرآن میں اُس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: عَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27)۔ یعنی، خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔ امن کا فارمولا امن کا یہ فارمولا جو خدا نے اپنے علم کے تحت بتایا، وہ کیا تھاـ وہ یہ تھا کہ ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problem, and avail the opportunities. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی رہنمائی سے اس فارمولے کو سمجھا اور اس کو حدیبیہ ایگری مینٹ (628 ء) کی شکل میں استعمال کیا۔ حدیبیہ ایگری مینٹ گویا کہ امن فارمولے کا ایک کامیاب مظاہرہ (demonstration) تھا۔ (حدیبیہ ایگری مینٹ کی تفصیلات میری تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ”دعوہ ایکٹوزم“، الرسالہ، فروری 2007)۔ امن کا یہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی شخص دریافت نہ کر سکا۔ آپ نے اگر چہ اپنی زندگی میں اس فارمولے کو نہایت کامیاب طور پر استعمال کیا تھا، لیکن میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اس کو حقیقی طور پر سمجھ نہ سکا، حتی کہ خود مسلمان بھی اس فارمولے کو سمجھنے سے مکمل طور پر عاجز رہےـ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ مسائل (problems) سے لڑ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو جان نہ سکے کہ مسائل کے باوجود اُن کے لیے نہایت اعلیٰ مواقع موجود ہیں۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے اور مواقع (opportunities) کو استعمال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page