نظریہ امن
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے، لیکن اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اس حکمت کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ پیغمبر اسلام کے اس امن فارمولے نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس نئے دور کو ایک لفظ میں ڈی سنٹرلائزیشن آف پولٹیکل پاور (decentralization of political power) کہا جا سکتا ہے۔ اس بات کو قرآن میں وأخرى تحبونها (61:13) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی اقتدار صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ اولین چیزیں وہ ہیں جو سیاسی اقتدار کے باہر پائی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں انسٹی ٹیوشن (institution) کا تصور اسی تاریخی پراسس (historical process) کا اگلا مرحلہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسا ہوا ہے کہ سیاسی اقتدار کے باہر مختلف مقاصد کے لیے انسٹی ٹیوشن بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً تعلیم کے لیے ، صنعت و تجارت کے لیے، سماجی فلاح کے لیے اور مشنری ورک کے لیے، وغیرہ۔ ان اداروں کے ذریعے اتنے بڑے بڑے کام لیے جا رہے ہیں کہ لوگوں نے حکومتی اقتدار (political power) کے بغیر مختلف عنوانات سے اپنے ایمپائر بنا رکھے ہیں۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہو گیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔ اس تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پر امن طریق کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جا سکیں ۔ باشعور قوموں نے اس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کر رکھا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلی پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنا لیا ہے۔ مگر جہاں تک اس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اس استثنائی معرفت کی اس کے سوا کوئی اور توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader